ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مجھ سے فکسنگ کے ثبوت لیتے وقت سنجیدہ نہیں تھا انسداد بدعنوانی برانچ: میک کولم

مجھ سے فکسنگ کے ثبوت لیتے وقت سنجیدہ نہیں تھا انسداد بدعنوانی برانچ: میک کولم

Wed, 08 Jun 2016 11:33:21    S.O. News Service

=لندن،7جون؍(آئی این ایس انڈیا)نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر کرس کینز کے خلاف میچ فکسنگ کے ثبوت دینے والے سابق کپتان برینڈن میک کولم نے دعویٰ کیاہے کہ آئی سی سی کی اینٹی کرپشن اکائی کا رویہ اس معاملے میں سنجیدہ نہیں تھا اور ان کا اعتماد آئی سی سی پر سے اٹھ چکاہے۔کینز کو نو ہفتے تک جاری رہی سماعت کے بعد نومبر 2015میں میچ فکسنگ کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔میک کولم نے کل ’’ایم سی سی اسپرٹ آف کرکٹ‘‘لیکچر کے دوان آئی سی سی کو آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے کہا کہ میرے سابق ہیروکیرنس نے 2008میں میچ فکسنگ کے لیے مجھ سے رابطہ کیا۔ایک بار کولکاتہ میں جہاں میں پہلی بار آئی پی ایل کھیل رہاتھااور پھر نیوزی لینڈ کے انگلینڈ کے دورے پر جب ہم وورسیسٹر میں تھے۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگا کہ یہاں کرکٹ کے گھر میں اس کی تصدیق کرنا صحیح ہو گا کہ میں اپنی ہر بات پر قائم ہوں اور ہر اس ثبوت پر جو میں نے ساتھوارک کراؤن کورٹ کودیئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ 2011میں نیوزی لینڈ کے پہلے میچ سے قبل آئی سی سی کی اینٹی کرپشن اکائی کے نمائندے جان روڈس نے ہم سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم سے کسی نے میچ فکسنگ کے لیے رابطہ کیا ہے اور ہم اس کی معلومات نہیں دے رہے ہیں تو ہم بھی مجرم ہیں،میں نے لوگوں کو کینز کے بارے میں بتایا جن میں سابق کپتان اورمیرے دوست ڈینیل ویٹوری شامل تھے۔میک کولم نے کہا کہ روڈس کے رویے کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ جان روڈس کے خطاب کے بعد میں نے ڈین سے بات کی اور ہم روڈس سے ملنے گئے۔روڈس ہمیں اپنے ہوٹل کے کمرے میں لے گئے جہاں میں نے انہیں کینزکے بارے میں بتایا۔انہوں نے اسے نوٹ کیا لیکن ہماری بات چیت ریکارڈ نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ وہ اسے کاغذ پر لکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں حیران رہ گیا کہ ثبوت لینے کے معاملے میں ان کا رویہ کتنا لاپرواہی بھرا تھا،میں نے انہیں بتایا کہ سابق بین الاقوامی اسٹار نے دو بار فکسنگ کیلئے رابطہ کیا لیکن انہوں نے مجھ سے تفصیل سے بتانے کے لئے کہا ہی نہیں۔میک کولم نے کہا کہ میں اکتوبر 2015میں لندن میں کٹہرے میں تھا جہاں میں نے تین بیان دئے۔دوسرے بیان کی درخواست آئی سی سی کی اینٹی کرپشن اکائی نے کافی بعد میں کی جس سے صاف ہے کہ سب سے پہلے والا بیان ناکافی تھا۔انہوں نے کہاکہ آئی سی سی کو کھلاڑیوں کے ساتھ اس سے بہتر سلوک کرنا چاہیے۔ثبوت جمع کرنے کے عمل سے زیادہ پیشہ ورانہ ہونا چاہیے۔


Share: